5 اکتوبر 2013 - 20:30
دھشتگردوں کی حمایت کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی

شام کے صدر بشار اسد نے ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے کی، اس کو بھاری قیمت چکانی پڑیگي

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شام کے صدر بشار اسد نے ترکی کے وزیر اعظم  رجب طیب اردوغان کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے کی، اس کو بھاری قیمت چکانی پڑیگي ۔ شام کے صدر بشار اسد نے کل ترکی کے " ھالک ٹی وی " چینل کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ دہشت گردی کے لئے ترکی کو بطور ہتھکنڈہ استعمال کرنے کے ، خطرناک نتائج نکلیں گے ۔ بشار اسد نے رجب طیب اردوغان کی غیر منطقی پالیسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جھوٹی اور غلط پالیسیاں ، دہشت گردی کے لئے ان کی حکومت کی وسیع حمایت کی علامت ہے ۔ ترکی نے ، مارچ  2011 میں  شام ميں شروع ہونے والے بحران کے آغاز سے ہی شام مخالف ، عرب – مغربی محاذ کا تعاون کیاہے ۔ ترکی کی سرحدیں دہشت گردوں کے شام میں داخل ہونے کےلئے ہمیشہ کھلی ہوئی ہیں ۔ شام کی فوج کے سابق کمانڈر اور شام کی آزاد فوج نامی دہشت گرد گروہ کے بانی ریاض الاسعد کی ہلاکت سے ، دہشت گردوں کے ساتھ ترکی حکومت کے تعاون کی نشاندہی ہوتی  ہے ۔لبنانی ماہر رضوان رزق نے کل پریس ٹی وی کے ساتھ گفتگو میں ، ترکی کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت کے بارے میں کہا کہ شام کے بحران سے متعلق  ترکی کی مداخلت کے بارےمیں صدر بشار اسد کا موقف منطقی ہے کیوں کہ بشار اسد جانتے ہیں کہ دسیوں دہشت گرد شام کی فوج کے ساتھ لڑنے کے لئے ترکی میں ٹریننگ پاتے ہيں اور ان کو حکومت ترکی مسلح کرتی ہے ۔ شام کے صدر نے اسی طرح ترکی کے مذکورہ ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو میں 2014 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اپنی شرکت کے حوالے سے کہا کہ صدارتی انتخابات میں اپنی شرکت کے حوالے سے کچھ کہنا ابھی مناسب نہیں ہے اور آئندہ مہینوں میں ان انتخابات ميں  شرکت کا مسئلہ واضح ہوجائیگا ۔ بشار اسد سن 200 سے شام کے صدر ہیں اور ان کی صدارت کا دوسرا سات سالہ دور 2014 ميں ختم ہورہا ہے شام کے اعلی حکام اورخاص طور پر بشار اسد نے بارہا کہا ہے کہ اس ملک کے عوام آئندہ صدارتی انتخابات میں جو بھی فیصلہ کریں وہ قابل قبول ہوگا ۔ دہشت گردوں کی حمایت سے عرب اور مغرب محاذ کا مقصد ، بشار اسد کی عوامی اور قانونی حکومت کو گرانا ہے ۔ شام نے ہمیشہ مزاحمت کے محورکے طور پر فلسطینی عوام کی حمایت کی ہے ۔ اسی تناظر ميں شام کے مفتی اعظم " احمد بدرالدین حسون " نے  اس ملک کے بحران کاسبب ، شام کی حکومت کی جانب سےلبنان اور فلسطینی مزاحمت کی حمایت کاموقف قرار دیا اور کہا کہ شام کو لبنان اور فلسطین کی حمایت کی قیمت چکانی پڑرہی ہے ۔  سعودی عرب کے انٹلیجنس منسٹر بندر بن سلطان کی جیب سے خطیر رقومات خرچ کئے جانے کے باوجود بھی جب عرب – مغرب محاذ کو شام میں کامیابی نہیں حاصل ہوسکی تو پھر اس ملک کے سیاسی بحران کے  حل کی کوششوں کو ہر آپشن پر برتری حاصل ہوگئی ہے ۔ شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے روس اور امریکہ میں اتفاق رائے اور اس اتفاق رائے سے شام کی مواقفت نے شام کے بحران کے حل کے لئے بین الاقوامی سطح پر سیاسی فضا سازگار بنا دی ہے ۔ اسی سلسلے ميں جنیوا 2 کانفرنس نومبر 2013 میں ہونا طے پائی ہے ۔ شام کے قومی آشتی کے وزیر علی حیدر نے جنیوا 2 بین الاقوامی کانفرنس  کے انعقاد کو ، شام کےبحران کے حل کے لئے روڈ میپ قرار دیا اور کہا کہ اس کانفرنس کا انعقاد 2013 کے اختتام تک شام کے سیاسی عمل کے آ‏‏غاز کا مترادف ہوگا ۔ علی حیدر نے بین الاقوامی جنیوا 2 کانفرنس کے انعقاد کے لئے عالمی برادری کی حمایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد شام کے بحران کا خاتمہ اور پر امن راہ حل کے حصول کےلئے مذاکرات میں شام کی حکومت کے نمائندوں اور مخالفین کی شراکت ہے ۔ شام کی قومی آشتی کے وزیر کے بقول جنیوا 2 کانفرنس میں ، شام کے آئندہ سیاسی نظام کے ڈھانچے اور بنیادی قانون کی اصلاح کے بارے ميں تبادلۂ خيال کیا جائیگا۔   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲